ہجر
۔۔۔
ہجرتوں کے موسم میں
چاہتوں کی اَن بَن میں
یاد کے دریچوں سے
اک ترے تصور کا
واہمہ سا ہوتا ہے
اور اِسی تصور میں
خواب ٹُوت جاتا ہے
خواب کے بکھرنے سے
خوش گمان لمحوں کا
مان ٹُوٹ جاتا ہے
اس بھرم کے رکھنے کو
زندگی کی پلکوں پر
آنسوؤںکی برکھا جب
گیت گنگنائے تو
صبح ہو ہی جاتی ہے
رات کٹ ہی جاتی ہے۔۔۔!
Related posts
-
سیف الدین سیف ۔۔۔ راہ آسان ہو گئی ہوگی
راہ آسان ہو گئی ہوگی جان پہچان ہو گئی ہوگی موت سے تیرے درد مندوں کی... -
منیر نیازی ۔۔۔ رنجِ فراقِ یار میں رُسوا نہیں ہُوا
رنجِ فراقِ یار میں رُسوا نہیں ہُوا اِتنا مَیں چُپ ہُوا کہ تماشا نہیں ہُوا ایسا... -
احمد ندیم قاسمی ۔۔۔ جب ترا حکم ملا ترک محبت کر دی
جب ترا حکم ملا ترک محبت کر دی دل مگر اس پہ وہ دھڑکا کہ قیامت...
